الضَّارُّ
ed-Dârr
ضرر پہنچانے پر قادر
سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَٓا اَمْوَالُنَا وَاَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَاۚ يَقُولُونَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَا لَيْسَ فٖي قُلُوبِهِمْؕ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللّٰهِ شَيْـٔاً اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَراًّ اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعاًؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبٖيراً
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
اس آیت میں یہ نام فعل یا مصدر کی صورت میں آیا ہے۔
علماء نے اس نام کو اس کے مقابل کے ساتھ ذکر کرنا ادب سمجھا ہے: الضَّارُّ النَّافِعُ — ed-Dârr en-Nâfi'